ایران؛ مزاحمت سے کامیابی تک/مجوزہ ایران۔امریکہ معاہدے کے اہم نکات

حوزہ/بین الاقوامی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور فوجی برتری ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ بہت سی قومیں ایسی گزری ہیں جو وسائل کی کمی کے باوجود اپنے عزم، استقامت اور اصولی مؤقف کی بدولت تاریخ کا رخ موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ جب کوئی قوم مسلسل دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتی تو بالآخر حالات اس کے حق میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| بین الاقوامی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور فوجی برتری ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ بہت سی قومیں ایسی گزری ہیں جو وسائل کی کمی کے باوجود اپنے عزم، استقامت اور اصولی مؤقف کی بدولت تاریخ کا رخ موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ جب کوئی قوم مسلسل دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتی تو بالآخر حالات اس کے حق میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایران کو بھی شدید اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ، سیاسی تنہائی اور فوجی خطرات کا سامنا رہا۔ عالمی سطح پر اسے محدود کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے منصوبے بنائے گئے اور اسے اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے گئے۔ لیکن ایرانی قوم اور قیادت نے ان تمام مشکلات کے باوجود صبر، استقلال اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر قائم رہی۔

آج ایران اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ سامنے آیا ہے جس میں پابندیوں کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی آزادانہ برآمدات اور ایران کی خودمختاری کے اعتراف جیسے نکات شامل ہیں یہ یقیناً ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

اگر یہ معاہدہ انہی شرائط کے ساتھ عملی شکل طے پاتا ہے تو اسے ایران کی عسکری استقامت، سیاسی بصیرت اور سفارتی کامیابی کا ایک اہم مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ کئی برسوں سے ایران شدید اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ، سفارتی محاصرے اور فوجی دھمکیوں کا سامنا کرتا رہا، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے بنیادی قومی مؤقف سے دستبردار ہونے کے بجائے صبر، استقامت اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی ثابت قدمی بالآخر ایسی صورتحال پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی جس میں طاقتور عالمی قوتوں کو بھی مذاکرات اور مفاہمت کی میز پر آنا پڑا۔

اس مجوزہ معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے، ایرانی اثاثوں کی بحالی، تیل کی آزادانہ برآمدات، علاقائی خودمختاری کے اعتراف اور جنگی کشیدگی کے خاتمے جیسے نکات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قومی وحدت، عوامی حمایت اور مضبوط قیادت کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہوگا کہ مسلسل مزاحمت اور استقلال بڑے سے بڑے دباؤ کو بھی مذاکرات میں تبدیل کر سکتا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات

اس مجوزہ معاہدے کے مطابق امریکہ، ایران اور اس تنازعے میں شامل ان کے اتحادی فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کریں گے۔ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی اور دونوں فریق مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ یا طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کے پابند ہوں گے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ یہ شق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔

معاہدے کے تحت امریکہ اور ایران ساٹھ دن کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے۔ اگر ضرورت پیش آئی تو باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔

امریکہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور تیس دن کے اندر انہیں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس کے نتیجے میں ایران کی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آنے کی راہ ہموار ہوگی۔

اس دوران ایران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ بارودی سرنگوں اور دیگر فوجی رکاوٹوں کے خاتمے کے بعد تجارتی نقل و حمل کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم تین سو ارب ڈالر کے ایک بڑے اقتصادی منصوبے کی تیاری میں تعاون کریں گے۔ یہ منصوبہ ایران کی معیشت کو نئی قوت فراہم کر سکتا ہے۔

امریکہ ایران کے خلاف عائد تمام اقسام کی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عہد کرتا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بعض قراردادیں، آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں اور امریکی یکطرفہ پابندیاں بھی شامل ہوں گی۔ پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام تک دوبارہ رسائی حاصل ہو سکے گی۔

ایران اس بات کی دوبارہ یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔ افزودہ جوہری مواد کے موجودہ ذخائر کے مستقبل کے بارے میں دونوں ممالک باہمی اتفاق اور بین الاقوامی نگرانی کے تحت طریقۂ کار طے کریں گے۔ اس کے ساتھ ایران کے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔

حتمی معاہدے تک دونوں ممالک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر متفق ہوں گے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں مزید فوجی نفری تعینات نہیں کرے گا۔

معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ شعبوں کے لیے فوری طور پر پابندیوں میں نرمی اور خصوصی استثنیٰ جاری کرے گا۔ اس سے ایران کی تیل برآمدات، بینکاری نظام، انشورنس اور بین الاقوامی تجارت کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع ملے گا۔

اسی طرح امریکہ ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثوں کو بھی قابلِ استعمال بنانے کا عہد کرتا ہے۔ ان فنڈز کے اجراء اور استعمال کے طریقہ کار پر دونوں ممالک مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق سے فیصلہ کریں گے۔

معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا جو تمام شقوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتا رہے گا اور کسی بھی اختلاف یا رکاوٹ کی صورت میں مناسب حل تجویز کرے گا۔

ابتدائی اقدامات کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک حتمی اور جامع معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ اس حتمی معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری بھی حاصل کی جائے گی۔

اگر یہ مجوزہ معاہدہ عملی صورت اختیار کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران پر عائد طویل المدتی پابندیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ خطے میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس سے ایران کی معیشت کو نئی زندگی ملے گی، عالمی تجارت کو استحکام حاصل ہوگا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات بڑھیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ اس اٹل حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب ایک قوم اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرتی ہے، اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتی ہے، مشکلات کے طوفانوں کے سامنے سینہ سپر رہتی ہے اور سیاسی بصیرت کے ساتھ مسلسل مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ پابندیاں ہوں یا دھمکیاں، اقتصادی دباؤ ہو یا سفارتی محاصرہ، استقامت کی طاقت بالآخر حالات کا رخ موڑ دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے حق، اپنی خودمختاری اور اپنے قومی وقار کے تحفظ کے لیے ثابت قدم رہتی ہیں، ایک دن وہی قوتیں بھی ان کے مؤقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو کبھی انہیں جھکانے کا خواب دیکھتی تھیں۔ مذاکرات کی میز پر عزت و وقار کے ساتھ بیٹھنا دراصل میدانِ استقامت میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کا ہی تسلسل ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں اس مجوزہ معاہدے کو ایران کی استقامت، قومی عزم، سیاسی حکمت، سفارتی کامیابی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ثمرات کی ایک نمایاں علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ اس حقیقت کا ایک اور ثبوت ہوگا کہ صبر، مزاحمت اور اصولی مؤقف پر ثابت قدمی بالآخر کامیابی اور سربلندی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha